۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 88

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَغَيْرُهُ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ،‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ فَاكْتُتِبْتُ فِيهِ فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَنَهَانِي أَشَدَّ النَّهْىِ ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَأْتِي السَّهْمُ فَيُرْمَى فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ، فَيَقْتُلُهُ أَوْ يَضْرِبُهُ فَيَقْتُلُهُ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ‏}

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا ، ان سے حذیفہ نے بیان کیا ، کہاہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو احادیث فرمائی تھیں جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی دوسری کا انتظار ہے ۔ ہم سے آپ نے فرمایا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں نازل ہوئی تھی پھر لوگوں نے اسے قرآن سے سیکھا ، پھر سنت سے سیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق فرمایا تھا کہ ایک شخص ایک نیند سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال دی جائے گی اور اس کا نشان ایک دھبے جتنا باقی رہ جائے گا ، پھر وہ ایک نیند سوئے گا اور پھر امانت نکالی جائے گی تو اس کے دل میں آبلے کی طرح اس کا نشان باقی رہ جائے گا ، جیسے تم نے کوئی چنگاری اپنے پاؤں پر گرالی ہو اور اس کی وجہ سے آبلہ پڑ جائے ، تم اس میں سو جن دیکھوگے لیکن اندر کچھ نہیں ہو گا اور لوگ خریدوفروخت کریں گے لیکن کوئی امانت ادا کرنے والا نہیں ہو گا ۔ پھر کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کسی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کس قدر عقلمند ، کتنا خوش طبع ، کتنا دلاور آدمی ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا اور مجھ پر ایک زمانہ گزر گیا اور میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ تم میں سے کس کے ساتھ میں لین دین کرتا ہوں اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے میرے حق کے ادا کرنے پر مجبور کرتا اور اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کے حاکم لوگ اس کو دباتے ایمانداری پر مجبور کرتے ۔ لیکن آج کل تو میں صرف فلاں فلاں لوگوں سے ہی لین دین کرتا ہوں ۔

Narrated Abu Al-Aswad:

An army unit was being recruited from the people of Medina and my name was written among them. Then I met `Ikrima, and when I informed him about it, he discouraged me very strongly and said, “Ibn `Abbas told me that there were some Muslims who were with the pagans to increase their number against Allah’s Messenger (ﷺ) (and the Muslim army) so arrows (from the Muslim army) would hit one of them and kill him or a Muslim would strike him (with his sword) and kill him. So Allah revealed:– ‘Verily! As for those whom the angels take (in death) while they are wronging themselves (by staying among the disbelievers).’ (4.97)

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top