۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ “‏ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ‏”‏ ‏.‏

ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہانہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیجئیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اس کو پسند کرتی ہو “ ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں آپ کے پاس اکیلی نہیں ہوں ( کہ سوکن کا ہونا پسند نہ کروں ) خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میرے لیے حلال نہیں ہے “ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم میں باتیں ہو رہی تھیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ام سلمہ کی بیٹی سے “ ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ میری ربیبہ بھی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے اس سے نکاح درست نہ ہوتا ، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ، مجھ کو اور اس کے والد ( ابوسلمہ ) کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا ، لہٰذا تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر نکاح کے لیے نہ پیش کیا کرو “ ۱؎ ۔

It was narrated from ‘Aishah:
that the Messenger of Allah said: ‘Breast-feeding makes unlawful (for marriages) the same things that blood tie make unlawful.”

Scroll to Top