حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَتَّابٌ، – يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ – عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَنْزٌ هُوَ فَقَالَ “ مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ ” .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیںمیں سونے کے اوضاح ۱؎ پہنا کرتی تھی ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہ کنز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مال اتنا ہو جائے کہ اس کی زکاۃ دی جائے پھر اس کی زکاۃ ادا کر دی جائے وہ کنز نہیں ہے “ ۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu’minin:
I used to wear gold ornaments. I asked: Is that a treasure (kanz), Messenger of Allah? He replied: whatever reaches a quantity on which zakat is payable is not a treasure (kanz) when the zakat is paid.