حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ” أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ ”. فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ إِلَى مَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ، وَإِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ” لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ ” يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ.
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعلی عبیداللہ حنفی نے ، کہا ہم سے قرہ بن خالد سدوسی نے ، انھوں نے کہا کہایک دن حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے بڑی دیر کی ۔ اور ہم آپ کا انتظار کرتے رہے ۔ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب ہو گیا تو آپ آئے اور ( بطور معذرت ) فرمایا کہ میرے ان پڑوسیوں نے مجھے بلا لیا تھا ( اس لیے دیر ہو گئی ) پھر بتلایا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہم ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے ۔ تقریباً آدھی رات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، پھر ہمیں نماز پڑھائی ۔ اس کے بعد خطبہ دیا ۔ پس آپ نے فرمایا کہ دوسروں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے ۔ لیکن تم لوگ جب تک نماز کے انتظار میں رہے ہو گویا نماز ہی کی حالت میں رہے ہو ۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی خیر کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو وہ بھی خیر کی حالت ہی میں ہیں ۔ قرہ بن خالد نے کہا کہ حسن کا یہ قول بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا ہے جو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:
The Prophet (ﷺ) prayed one of the `Isha’ prayer in his last days and after finishing it with Taslim, he stood up and said, “Do you realize (the importance of) this night? Nobody present on the surface of the earth tonight would be living after the completion of one hundred years from this night.” The people made a mistake in grasping the meaning of this statement of Allah’s Messenger (ﷺ) and they indulged in those things which are said about these narrators (i.e. some said that the Day of Resurrection will be established after 100 years etc.) But the Prophet (ﷺ) said, “Nobody present on the surface of earth tonight would be living after the completion of 100 years from this night”; he meant “When that century (people of that century) would pass away.”
USC-MSA web (English) reference