حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا الأَجْلَحُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَنْكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الأَنْصَارِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ” أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ ” . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ ” أَرْسَلْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّي قَالَتْ لاَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ” إِنَّ الأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ ” .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا : اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو “ ۔