حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَادِمًا لَهُ وَلاَ امْرَأَةً وَلاَ ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا .
ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی بندیوں کو نہ مارو “ ، تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! عورتیں اپنے شوہروں پہ دلیر ہو گئی ہیں ، لہٰذا انہیں مارنے کی اجازت دیجئیے ( چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ) تو ان کو مار پڑی ، اب بہت ساری عورتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کا چکر کاٹنے لگیں ، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آل محمد کے گھر آج رات ستر عورتیں آئیں ، ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی ، تو تم انہیں ( زیادہ مارنے والے مردوں کو ) بہتر لوگ نہ پاؤ گے “ ۔