حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَىَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ” إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ ” . فَقُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ ” تَرِبَتْ يَدَاكِ أَوْ يَمِينُكِ ” .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہمیرے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے ، تو میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے چچا کو اپنے پاس آنے دو “ ، میں نے کہا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں ! ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تمہارے چچا ہیں انہیں اپنے پاس آنے دو “ ۔