۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 81

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي أَدْنَى مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ، تُرْسٍ أَوْ حَجَفَةٍ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذَا ثَمَنٍ‏.‏

مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہشام بن عروہ نے ، ہم کو ان کے والد ( عروہ بن زبیر ) نے خبر دی ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے بیان کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا ۔ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال ہو یا عام ڈھال ، یہ دونوں چیزیں قیمت والی تھیں ۔

Narrated `Aisha:

A thief’s hand was not cut off for stealing something worth less than the price of a shield, whether a Turs or Hajafa (two kinds of shields), each of which was worth a (respectable) price.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top