۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 78

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا‏}‏ قَالَ ‏”‏ كَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا ‏”‏‏.‏

ہم سے حضرت امام حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے حضرت سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے خبر دی ، کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آیت ” لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا‏ “ کے متعلق کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا ۔

Narrated Ubai bin Ka’b:

that he heard Allah’s Messenger (ﷺ) saying, “(Moses) said, ‘Call me not to account for what I forget and be not hard upon me for my affair (with you)’ (18.73) the first excuse of Moses was his forgetfulness.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top