۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 76

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَاقَةٌ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ نَاقَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ، وَكَانَتْ لاَ تُسْبَقُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَبَقَهَا، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَقَالُوا سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ “‏ إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ ‏”‏‏.‏

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے زبیر بن معاویہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حمید نے بیان کیا ، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی ( دوسری سند ) حضرت اما م بخاری نے کہا اور مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو فزاری نے اور ا بو خالد احمر نے خبر دی ، انہیں حمید طویل نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام ” عضباء “ تھا ( کوئی جانور دوڑ میں ) اس سے آگے نہیں بڑھ پاتا تھا ۔ پھر ایک اعرابی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے آگے بڑھ گیا ۔ مسلمانوں پر یہ معاملہ بڑا شاق گزرا اور کہنے لگے کہ افسوس عضباء پیچھے رہ گئی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا ہے کہ جب دنیا میں وہ کسی چیز کو بڑھاتا ہے تو اسے وہ گھٹاتا بھی ہے ۔

Narrated Anas:

The Prophet (ﷺ) had a she-camel called Al-`Adba’ and it was too fast to surpass in speed. There came a bedouin riding a camel of his, and that camel outstripped it (i.e. Al-Aqba’). That result was hard on the Muslims who said sorrowfully, “Al- Adba has been outstripped.” Allah’s Messenger (ﷺ) said, “It is due from Allah that nothing would be raised high in this world except that He lowers or puts it down.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top