وَزَادَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَوْلَهُ حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ. فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ أَلَمْ تَسْمَعْهُ قَالَ الأَوَانِي. قَالَ لاَ. قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ تُرَى فِيهِ الآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ.
اور ابن ابوعدی محمد بن ابراہیم نے بھی شعبہ سے روایت کیا ، ان سے معبد بن خالد نے اور ان سے حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہانہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ کا حوض اتنا لمبا ہو گا جتنی صنعاء اور مدینہ کے درمیان دوری ہے ۔ اس پر حضرت مستورد نے کہا کیا آپ نے برتنوں والی روایت نہیں سنی ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ مستورد نے کہا کہ کہ اس میں برتن ( پینے کے ) اس طرح نظر آئیں گے جس طرح آسمان میں ستارے نظرآتے ہیں ۔
USC-MSA web (English) reference