۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 75

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ الْيَهُودُ يُسَلِّمُونَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُونَ السَّامُ عَلَيْكَ‏.‏ فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ إِلَى قَوْلِهِمْ فَقَالَتْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ‏”‏‏.‏ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ قَالَ ‏”‏ أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ ‏”‏‏.‏

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، انہیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہیہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو کہتے السام علیک ( آپ کو موت آئے ) عائشہ رضی اللہ عنہا ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جو اب دیا کہ” عليكم السام واللعنۃ‏ “ ( تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ٹھہرو عائشہ ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں ۔ میں کہتا ہوں ” وعلیکم “ ۔

Narrated `Aisha:

The Jews used to greet the Prophet (ﷺ) by saying, “As-Samu ‘Alaika (i.e., death be upon you), so I understood what they said, and I said to them, “As-Samu ‘alaikum wal-la’na (i.e. Death and Allah’s Curse be upon you).” The Prophet (ﷺ) said, “Be gentle and calm, O `Aisha, as Allah likes gentleness in all affairs.” I said, “O Allah’s Prophet! Didn’t you hear what they said?” He said, “Didn’t you hear me answering them back by saying, ‘Alaikum (i.e., the same be upon you)?”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top