حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالاَ لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ وَهْوَ كَذَلِكَ “ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ”. يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابوالحکم سیار نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے یزید فقیر نے ، کہا ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء کو نہیں دی گئی تھیں ۔ ( 1 ) ایک مہینے کی راہ سے میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ۔ ( 2 ) میرے لیے تمام زمین میں نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے کی اجازت ہے ۔ اس لیے میری امت کے جس آدمی کی نماز کا وقت ( جہاں بھی ) آ جائے اسے ( وہیں ) نماز پڑھ لینی چاہیے ۔ ( 3 ) میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ۔ ( 4 ) پہلے انبیاء خاص اپنی قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجے جاتے تھے ۔ لیکن مجھے دنیا کے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ ( 5 ) مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے ۔
Narrated `Aisha and `Abdullah bin `Abbas:
When the last moment of the life of Allah’s Messenger (ﷺ) came he started putting his ‘Khamisa’ on his face and when he felt hot and short of breath he took it off his face and said, “May Allah curse the Jews and Christians for they built the places of worship at the graves of their Prophets.” The Prophet (ﷺ) was warning (Muslims) of what those had done.
USC-MSA web (English) reference