حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ الْفَرَّاءِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ أَنْ قَالَ لاَ أُرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلاَّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ هَذَا . فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ لاَ أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبَدًا مَا عِشْتُ .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہجب ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ہم تو صدقہ فطر میں ایک صاع گیہوں ، ایک صاع کھجور ، ایک صاع جو ، ایک صاع پنیر ، اور ایک صاع کشمش نکالتے تھے ، ہم ایسے ہی برابر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مدینہ آئے ، تو انہوں نے جو باتیں لوگوں سے کیں ان میں یہ بھی تھی کہ میں شام کے گیہوں کا دو مد تمہارے غلوں کی ایک صاع کے برابر پاتا ہوں ، تو لوگوں نے اسی پر عمل شروع کر دیا ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں جب تک زندہ رہوں گا اسی طرح ایک صاع نکالتا رہوں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نکالا کرتا تھا ۱؎ ۔