حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ قَالَ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ قَالَ فَقَالَ ” مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي ” . قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي . قَالَ ” أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ } لأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ فِي الْقُرْآنِ ” . شَكَّ خَالِدٌ ” قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ” . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلَكَ . قَالَ ” { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ } وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي أُوتِيتُ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ ” .
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے ، تو آپ نے انہیں بلایا ، میں ( نماز پڑھ کر ) آپ کے پاس آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا ؟ “ ، عرض کیا : میں نماز پڑھ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : ” اے مومنو ! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو ، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں ، جس میں تمہاری زندگی ہے “ میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورۃ سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں “ ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے ) تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ سورۃ «الحمد لله رب العالمين» ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے “ ۔