حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ جَاءَنَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ . فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا فَأَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَخَذَهَا وَقَالَ أَىُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي وَأَىُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي إِذَا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ أَخَذْتُ خِيَارَ إِبِلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ .
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل صدقہ ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا ، اور اس کے میثاق ( عہد نامہ ) میں پڑھا کہ الگ الگ مالوں کو یکجا نہ کیا جائے ، اور نہ مشترک مال کو زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ کیا جائے ، ایک شخص ان کے پاس ایک بھاری اور موٹی سی اونٹنی لے کر آیا ، عامل زکاۃ نے اس کو لینے سے انکار کر دیا ، آخر وہ دوسری اونٹنی اس سے کم درجہ کی لایا ، تو عامل نے اس کو لے لیا ، اور کہا کہ کون سی زمین مجھے جگہ دے گی ، اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا ؟ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسلمان کا بہترین مال لے کے جاؤں گا ۱؎ ۔