۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 8

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ‏.‏

ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھے یونس بن یزید نے خبر دی ، انھوں نے ابن شہاب زہری کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا ، ان کو ان کے باپ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہانھوں نے عبداللہ ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجدنبوی کے اندر تقاضا کیا ۔ دونوں کی آواز کچھ اونچی ہو گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرہ سے سن لیا ۔ آپ اٹھے اور حجرہ پر پڑے ہوئے پردہ کو ہٹایا ۔ آپ نے کعب بن مالک کو آواز دی ، اے کعب ! کعب بولے ۔ یا رسول اللہ ! حاضر ہوں ۔ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ اپنا آدھا قرض معاف کر دے ۔ حضرت کعب نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں نے معاف کر دیا ۔ آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا اچھا اب چل اٹھ اس کا قرض ادا کر ۔

Narrated Abu Huraira:

Allah’s Messenger (ﷺ) sent some horse men to Najd and they brought a man called Thumama bin Uthal from Bani Hanifa. They fastened him to one of the pillars of the mosque.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top