حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ “ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَىَّ الْبَارِحَةَ ـ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ـ لِيَقْطَعَ عَلَىَّ الصَّلاَةَ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ”. قَالَ رَوْحٌ فَرَدَّهُ خَاسِئًا.
ہم سے زکریابن یحییٰ نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہ کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ بن زبیر کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے فرمایا کہغزوہ خندق میں سعد ( رضی اللہ عنہ ) کے بازو کی ایک رگ ( اکحل ) میں زخم آیا تھا ۔ ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک خیمہ نصب کرا دیا تاکہ آپ قریب رہ کر ان کی دیکھ بھال کیا کریں ۔ مسجد ہی میں بنی غفار کے لوگوں کا بھی ایک خیمہ تھا ۔ سعد رضی اللہ عنہ کے زخم کا خون ( جو رگ سے بکثرت نکل رہا تھا ) بہہ کر جب ان کے خیمہ تک پہنچا تو وہ ڈر گئے ۔ انھوں نے کہا کہ اے خیمہ والو ! تمہاری طرف سے یہ کیسا خون ہمارے خیمہ تک آ رہا ہے ۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ یہ خون سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے بہہ رہا ہے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا اسی زخم کی وجہ سے انتقال ہو گیا ۔
Narrated Abu Huraira:
“The Prophet (ﷺ) said, “Last night a big demon (afreet) from the Jinns came to me and wanted to interrupt my prayers (or said something similar) but Allah enabled me to overpower him. I wanted to fasten him to one of the pillars of the mosque so that all of you could See him in the morning but I remembered the statement of my brother Solomon (as stated in Quran): My Lord! Forgive me and bestow on me a kingdom such as shall not belong to anybody after me (38.35).” The sub narrator Rauh said, “He (the demon) was dismissed humiliated.”
USC-MSA web (English) reference