حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ وَمَعَهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ فَقَالَ ” وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ ”. قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ فَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَلِمَةٍ، لَوْ تَكَلَّمَ بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ قَوْلُهُ ” سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ”.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک سفر میں کے موقع پر ) اپنی عورتوں کے پاس آئے جو اونٹوں پر سوار جا رہی تھیں ، ان کے ساتھ ام سلیم رضی اللہ عنہا انس کی والدہ بھی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، افسوس ، انجشہ ! شیشوں کو آہستگی سے لے چل ۔ ابوقلابہ نے کہا کہ آنحضرت نے عورتوں سے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال فرمایا کہ اگر تم میں کوئی شخص استعمال کرے تو تم اس پر عیب جوئی کرو ۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ شیشوں کو نرمی سے لے چل ۔
Narrated Anas bin Malik:
The Prophet (ﷺ) came to some of his wives among whom there was Um Sulaim, and said, “May Allah be merciful to you, O Anjasha! Drive the camels slowly, as they are carrying glass vessels!” Abu Qalaba said, “The Prophet (ﷺ) said a sentence (i.e. the above metaphor) which, had anyone of you said it, you would have admonished him for it”.
USC-MSA web (English) reference