۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 73

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقًا، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قِسْمَةً كَبَعْضِ مَا كَانَ يَقْسِمُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ‏.‏ قُلْتُ أَمَّا أَنَا لأَقُولَنَّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَهْوَ فِي أَصْحَابِهِ فَسَارَرْتُهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَغَضِبَ، حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَخْبَرْتُهُ ثُمَّ قَالَ ‏ “‏ قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ ‏”‏‏.‏

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جنگ حنین ) میں کچھ مال تقسیم کیا جیسا کہ آپ ہمیشہ تقسیم کیا کرتے تھے ۔ اس پر قبیلہ انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی حاصل کرنا مقصود نہیں تھا ۔ میں نے کہا کہ یہ بات میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہوں گا ۔ چنانچہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے ، میں نے چپکے سے یہ بات آپ سے کہی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ بات بڑی ناگوار گزری اور آپ کے چہرہ کا رنگ بدل گیا اور آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر نہ دی ہوتی پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاموسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر کیا ۔

Narrated `Abdullah:

The Prophet (ﷺ) divided and distributed something as he used to do for some of his distributions. A man from the Ansar said, “By Allah, in this division the pleasure of Allah has not been intended.” I said, “I will definitely tell this to the Prophet (ﷺ) .” So I went to him while he was sitting with his companions and told him of it secretly. That was hard upon the Prophet (ﷺ) and the color of his face changed, and he became so angry that I wished I had not told him. The Prophet (ﷺ) then said, “Moses was harmed with more than this, yet he remained patient.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top