حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي أَنْكَحْتُ ابْنَتِي، ثُمَّ أَصَابَهَا شَكْوَى فَتَمَرَّقَ رَأْسُهَا، وَزَوْجُهَا يَسْتَحِثُّنِي بِهَا أَفَأَصِلُ رَأْسَهَا فَسَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ.
مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا ، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میری والدہ صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا ، ان سے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ میں نے اپنی لڑکی کی شادی کی ہے اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑگئے اور اس کا شوہر مجھ پر اس کے معاملہ میں زور دیتا ہے ۔ کیا میں اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں ؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں کو برا کہا ۔ ان پر لعنت بھیجی ۔
Narrated Asma:
(the daughter of Abu’ Bakr) A woman came to Allah’s Messenger (ﷺ) and said, “I married my daughter to someone, but she became sick and all her hair fell out, and (because of that) her husband does not like her. May I let her use false hair?” On that the Prophet (ﷺ) cursed such a lady as artificially lengthening (her or someone else’s) hair or got her hair lengthened artificially.
USC-MSA web (English) reference