۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 72

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ جَارِيَةً، مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ، وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعَرُهَا، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهَا فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ “‏ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ‏”‏‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ‏.‏

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے حسن بن مسلم بن نیاق سے سنا ، وہ صفیہ بنت شیبہ سے بیان کرتے تھے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہانصار کی ایک لڑکی نے شادی کی ۔ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سرکے بال جھڑگئے ، اس کے گھر والوں نے چاہا کہ اس کے بالوں میں مصنوعی بال لگادیں ۔ اس لئے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی دونوں پر لعنت بھیجی ہے ۔ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے بھی ابان بن صالح سے ، انہوں نے حسن بن مسلم سے ، انہوں نے صفیہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ۔

Narrated `Aisha:

An Ansari girl was married and she became sick and all her hair fell out intending to provide her with false hair. They asked the Prophet (ﷺ) who said, “Allah has cursed the lady who artificially lengthens (her or someone else’s) hair and also the one who gets her hair lengthened.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top