حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ “ مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ غُفِرَ لَهُ سَنَةٌ أَمَامَهُ وَسَنَةٌ بَعْدَهُ ” .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کیا ہے “ ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی ، اور فرعون کو پانی میں ڈبو دیا ، تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن شکریہ میں روزہ رکھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا ، اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا “ ۔