حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ فَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ وَالصُّفْرَةَ فَرُبَّمَا وَضَعَتْ تَحْتَهَا الطَّسْتَ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، اس نے عرض کیا : میں ہلاک ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا ؟ اس نے کہا : میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایک غلام آزاد کرو “ ، اس نے کہا : میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا تو دو مہینے لگاتار روزے رکھو “ ، اس نے کہا : میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ “ اس نے کہا : مجھے اس کی بھی طاقت نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھ جاؤ “ وہ بیٹھ گیا ، اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آ گیا ، اس ٹوکرے کو «عرق» کہتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” جاؤ اسے صدقہ کر دو “ ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو “ ۱؎ ۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ایسے ہی بیان کیا ہے ، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی جگہ پر ایک دن کا روزہ رکھ لو “ ۔