حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِبِلاَلٍ ” الْغَدَاءُ يَا بِلاَلُ ” . فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ” نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا وَفَضْلُ رِزْقِ بِلاَلٍ فِي الْجَنَّةِ أَشَعَرْتَ يَا بِلاَلُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلاَئِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ ” .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی : ایک تو عادل امام کی ، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے ، تیسرے مظلوم کی ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا ، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میری عزت کی قسم ! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو “ ۱؎ ۔