حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ “ صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ ” .
ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں “ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو “ ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں طاقتور ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم صبر کے مہینے ۱؎ کے روزے رکھو ، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو “ میں نے عرض کیا : مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو ، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو “ میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر کے مہینہ میں روزے رکھو ، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو ، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو “ ۲؎ ۔