حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ ” انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ”. قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ. ثُمَّ قَالَ ” انْزِلْ فَاجْدَحْ ”. قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا. ثُمَّ قَالَ ” انْزِلْ فَاجْدَحْ ”. فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ فَقَالَ ” إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ”.
اور لیث نے بیان کیا کہ ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بخیل اورسخی کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے جن پرلو ہے کی دو زرہیں سینے سے گردن تک ہیں ۔ سخی جب بھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو زرہ اس کے چمڑے پر ڈھیلی ہو جاتی ہے اور اس کے پاؤں کی انگلیوں تک پہنچ جاتی ہے ( اور پھیل کر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ) اس کے نشان قدم کو مٹاتی چلتی ہے لیکن بخیل جب بھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے ، وہ اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا ۔ اس وقت آپ نے اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ۔
Narrated `Abdullah bin Abi A’ufa:
We were with Allah’s Messenger (ﷺ) on a journey, and when the sun set, he said to a man, “Get down and prepare a drink of Sawiq for me.” The man said, “O Allah’s Messenger (ﷺ)! Will you wait till it is evening?” Allah’s Messenger (ﷺ) again said, “Get down and prepare a drink of Sawiq.” The man said, “O Allah’s Apostle! Will you wait till it is evening, for it is still daytime. ” The Prophet (ﷺ) again said, “Get down and prepare a drink of Sawiq.” So the third time the man got down and prepared a drink of sawiq for him. Allah’s Messenger (ﷺ) drank thereof and pointed with his hand towards the East, saying, “When you see the night falling from this side, then a fasting person should break his fast.”
USC-MSA web (English) reference