حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ، فَأَبَى مَوَالِيهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلاَءَ، فَذَكَرَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ” اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ”. وَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَقِيلَ إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ ” هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ”.
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَزَادَ فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے کہ عطاء راسانی نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے لیے مشرکین دو طرح کے تھے ۔ ایک تو مشرکین لڑائی کرنے والوں سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ کرتے تھے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے ۔ دوسرے عہد و پیمان کرنے والے مشرکین کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ نہیں کرتے تھے اور نہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے اور جب اہل کتاب حرب کی کوئی عورت ( اسلام قبول کرنے کے بعد ) ہجرت کر کے ( مدینہ منورہ ) آتی تو انہیں اس وقت تک پیغام نکاح نہ دیا جاتا یہاں تک کہ انہیں حیض آتا اور پھر وہ اس سے پاک ہوتیں ، پھر جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان سے نکاح جائز ہو جاتا ، پھر اگر ان کے شوہر بھی ، ان کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لینے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتے تو یہ انہیں کو ملتیں اور اگر مشرکین میں سے کوئی غلام یا لونڈی مسلمان ہو کر ہجرت کرتی تو وہ آزاد سمجھے جاتے اور ان کے وہی حقوق ہوتے جو تمام مہاجرین کے تھے ۔ پھر عطاء نے معاہد مشرکین کے سلسلے میں مجاہد کی حدیث کی طرح سے صورت حال بیان کی کہ اگر معاہد مشرکین کی کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آجاتی تو انہیں ان کے مالک مشرکین کو واپس نہیں کیا جاتا تھا ۔ البتہ جو ان کی قیمت ہوتی وہ واپس کر دی جاتی تھی ۔
Narrated Al-Aswad:
Aisha intended to buy Barira, but her masters stipulated that her wala wound be for them. Aisha mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said (to `Aisha), “Buy and manumit her, for the wala is for the one who manumits.” Once some meat was brought to the Prophet (ﷺ) and was said, “This meat was given in charity to Barira. ” The Prophet (ﷺ) said, “It is an object of charity for Barira and a gift for us.”
Narrated Adam:
Shu`ba related the same Hadith and added: Barira was given the option regarding her husband.
USC-MSA web (English) reference