حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ “ إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يَنْكِحَ عَلِيٌّ ابْنَتَهُمْ، فَلاَ آذَنُ ”.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے ، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے ، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہبریرہ رضی اللہ عنہا سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے ۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں کے بارے میں ) فرمایا کہ ” ولاء “ اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا ، پھر کھانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے ؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لئے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے ۔
Narrated Al-Miswar bin Makhrama Az-Zuhri:
I heard the Prophet (ﷺ) saying, “Banu Al-Mughira have asked my leave to let `Ali marry their daughter, but I give no leave to this effect.”
USC-MSA web (English) reference