حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ “ يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً، أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا ”.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے ۔ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نےاللہ تعالیٰ کے فرمان ” آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لئے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں ۔ “ بیان کیا کہ جب جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے ۔ اس کی وجہ سے آپ کے لئے وحی یاد کرنے میں بہت بار پڑتا تھا اور یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہو جاتا تھا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو سورۃ ” لااقسم بیوم القیٰمۃ “ میں ہے ، نازل کی کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لئے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے پیچھے پڑھا کریں پھر آپ کی زبان سے اس کی تفسیر بیان کرادینابھی ہمارے ذمہ ہے ۔ “ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ سر جھکالیتے اور جب واپس جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے یاد کروانے کا وعدہ کیا تھا ۔ کہ تیرے دل میں جمادینا اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے پھر آپ اس کے موافق پڑھتے ۔
Narrated `Aisha:
The Prophet (ﷺ) heard a reciter reciting, the Qur’an in the mosque at night. The Prophet (ﷺ) said, “May Allah bestow His Mercy on him, as he has remind ed me of such-and-such Verses of such and-such Suras, which I missed!”
USC-MSA web (English) reference