وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاعَ لِذَلِكَ، فَقَالَ “ اللَّهُمَّ هَالَةَ ”. قَالَتْ فَغِرْتُ فَقُلْتُ مَا تَذْكُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ، هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ، قَدْ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا
اور اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا ، انہیں علی بن مسہرنے خبر دی ، انہیں ہشام نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہخدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلدنے ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اجازت لینے کی ادا یاد آ گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونک اٹھے اور فرمایا اللہ ! یہ تو ہالہ ہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے اس پر بڑی غیرت آئی ، میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی کس بوڑھی کا ذکر کیا کرتے ہیں جس کے مسوڑوں پر بھی دانتوں کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے ( صرف سرخی باقی رہ گئی تھی ) اور جسے مرے ہوئے بھی ایک زمانہ گزر چکا ہے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی دے دی ہے ۔
Narrated ‘Aisha:
USC-MSA web (English) reference