۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 57

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ، جَعَلَ يَدُورُ فِي نِسَائِهِ وَيَقُولُ ‏ “‏ أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا ‏”‏‏.‏ حِرْصًا عَلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي سَكَنَ‏.‏

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں جانے کے لیے ) آپ نے ( اپنی بہن ) اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریتاً لے لیا تھا ، اتفاق سے وہ راستے میں کہیں گم ہو گیا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا ، اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا تو ان حضرات نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی ، پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے صورت حال کے متعلق عرض کیا ، اس کے بعد تیمم کی آیت نازل ہوئی ۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا : تمہیں اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ، خدا کی قسم تم پر جب بھی کوئی مرحلہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے نکلنے کی سبیل تمہارے لیے پیدا کر دی ، اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی اس میں برکت پیدا فرمائی ۔

Narrated Hisham’s father:

When Allah’s Messenger (ﷺ) was in his fatal illness, he started visiting his wives and saying, “Where will I be tomorrow?” He was anxious to be in `Aisha’s home. `Aisha said, “So when it was my day, the Prophet became silent (no longer asked the question).

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top