حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ أَبَاهُ، تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا وَلَيْسَ عِنْدِي إِلاَّ مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ، وَلاَ يَبْلُغُ مَا يُخْرِجُ سِنِينَ مَا عَلَيْهِ، فَانْطَلِقْ مَعِي لِكَىْ لاَ يُفْحِشَ عَلَىَّ الْغُرَمَاءُ. فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ فَدَعَا ثَمَّ آخَرَ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ فَقَالَ “ انْزِعُوهُ ”. فَأَوْفَاهُمُ الَّذِي لَهُمْ، وَبَقِيَ مِثْلُ مَا أَعْطَاهُمْ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہصفہ والے محتاج اور غریب لوگ تھے ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ ایک تیسرے کو بھی اپنے ساتھ لیتا جائے اور جس کے گھر چار آدمیوں کا کھانا ہو وہ پانچواں آدمی اپنے ساتھ لیتا جائے یا چھٹے کو بھی یا آپ نے اسی طرح کچھ فرمایا ( راوی کو پانچ اور چھ میں شک ہے ) خیر تو ابوبکر رضی اللہ عنہ تین اصحاب صفہ کو اپنے ساتھ لائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ دس اصحاب کو لے گئے اور گھر میں میں تھا اور میرے ماں باپ تھے ۔ ابوعثمان نے کہا مجھ کو یاد نہیں عبدالرحمٰن نے یہ بھی کہا ، اور میری عورت اور خادم جو میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھروں میں کام کرتا تھا ۔ لیکن خود ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا اور عشاء کی نماز تک وہاں ٹھہرے رہے ( مہمانوں کو پہلے ہی بھیج چکے تھے ) اس لیے انہیں اتنا ٹھہرنا پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھا لیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ کو جتنامنظور تھا اتنا حصہ رات کا جب گزر گیا تو آپ گھر واپس آئے ۔ ان کی بیوی نے ان سے کہا ، کیا بات ہوئی ۔ آپ کو اپنے مہمان یاد نہیں رہے ؟ انہوں نے پوچھا : کیا مہمانوں کو اب تک کھانا نہیں کھلایا ؟ بیوی نے کہا کہ مہمانوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکار کیا ۔ ان کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تھا لیکن وہ نہیں مانے ۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں تو جلدی سے چھپ گیا ( کیونکہ ابوبکر غصہ ہو گئے تھے ) آپ نے ڈانٹا ، اے پاجی ! اور بہت برا بھلا کہا ، پھر ( مہمانوں سے ) کہا چلو اب کھاؤ اور خود قسم کھا لی کہ میں تو کبھی نہ کھاؤں گا ۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خدا کی قسم ، پھر ہم جو لقمہ بھی ( اس کھانے میں سے ) اٹھاتے تو جیسے نیچے سے کھانا اور زیادہ ہو جاتا تھا ( اتنی اس میں برکت ہوئی ) سب لوگوں نے شکم سیر ہو کر کھایا اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ رہا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو کھانا جوں کا توں تھا یا پہلے سے بھی زیادہ ۔ اس پر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا ، اے بنی فراس کی بہن ( دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہوا ) انہوں نے کہا ، کچھ بھی نہیں ، میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم ، کھانا تو پہلے سے تین گنا زیادہ معلوم ہوتا ہے ، پھر وہ کھانا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کھایا اور فرمایا کہ یہ میرا قسم کھانا تو شیطان کا اغوا تھا ۔ ایک لقمہ کھا کر اسے آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے وہاں وہ صبح تک رکھا رہا ۔ اتفاق سے ایک کافر قوم جس کا ہم مسلمانوں سے معاہدہ تھا اور معاہدہ کی مدت ختم ہو چکی تھی ۔ ان سے لڑنے کے لیے فوج جمع کی گئی ۔ پھر ہم بارہ ٹکڑیاں ہو گئے اور ہر آدمی کے ساتھ کتنے آدمی تھے خدا معلوم مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ آپ نے ان نقیبوں کو لشکر والوں کے ساتھ بھیجا ۔ حاصل یہ کہ فوج والوں نے اس میں سے کھایا ۔ یا عبدالرحمٰن نے کچھ ایسا ہی کہا ۔
Narrated Jabir:
My father had died in debt. So I came to the Prophet (ﷺ) and said, “My father (died) leaving unpaid debts, and I have nothing except the yield of his date palms; and their yield for many years will not cover his debts. So please come with me, so that the creditors may not misbehave with me.” The Prophet (ﷺ) went round one of the heaps of dates and invoked (Allah), and then did the same with another heap and sat on it and said, “Measure (for them).” He paid them their rights and what remained was as much as had been paid to them.
USC-MSA web (English) reference