۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 56

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ فَجَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ ‏ “‏ مَا لَكُمْ ‏”‏‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلاَ نَشْرَبُ إِلاَّ مَا بَيْنَ يَدَيْكَ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَثُورُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا‏.‏ قُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً‏.‏

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسحٰق نے ، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہصلح حدیبیہ کے دن ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے ۔ حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے ہم نے اس سے اتنا پانی کھینچا کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا ( جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ تشریف لائے ) اور کنویں کے کنارے بیٹھ کر پانی کی دعا کی اور اس پانی سے کلی کی اور کلی کا پانی کنویں میں ڈال دیا ۔ ابھی تھوڑی دیر بھی نہیں ہوئی تھی کہ کنواں پھر پانی سے بھر گیا ۔ ہم بھی اس سے خوب سیر ہوئے اور ہمارے اونٹ بھی سیراب ہو گئے ۔ یا پانی پی کر لوٹے ۔

Narrated Salim bin Abi Aj-Jad:

Jabir bin `Abdullah said, “The people became very thirsty on the day of Al-Hudaibiya (Treaty). A small pot containing some water was in front of the Prophet (ﷺ) and when he had finished the ablution, the people rushed towards him. He asked, ‘What is wrong with you?’ They replied, ‘We have no water either for performing ablution or for drinking except what is present in front of you.’ So he placed his hand in that pot and the water started flowing among his fingers like springs. We all drank and performed ablution (from it).” I asked Jabir, “How many were you?” he replied, “Even if we had been one-hundred-thousand, it would have been sufficient for us, but we were fifteen-hundred.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top