حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ” هَلْ لَكُمْ مِنْ أَنْمَاطٍ ”. قُلْتُ وَأَنَّى يَكُونُ لَنَا الأَنْمَاطُ قَالَ ” أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ لَكُمُ الأَنْمَاطُ ”. فَأَنَا أَقُولُ لَهَا ـ يَعْنِي امْرَأَتَهُ ـ أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ. فَتَقُولُ أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ” إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمُ الأَنْمَاطُ ”. فَأَدَعُهَا.
ہم سے عباس بن ولید نرسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہمجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے ۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں ۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام چلے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے فرمایا : معلوم ہے یہ کون صاحب تھے ؟ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے ۔ ابوعثمان نے بیان کیا کہ ام سلمہ نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے ۔ ام سلمہ نے بیان کیا اللہ کی قسم میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ آخر جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ حضرت جبرائیل علیہ السلام ( کی آمد ) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہی تھے ۔ یا ایسے ہی الفاظ کہے ۔ بیان کیا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ؟ تو انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ۔
Narrated Jabir:
(Once) the Prophet (ﷺ) said, “Have you got carpets?” I replied, “Whence can we get carpets?” He said, “But you shall soon have carpets.” I used to say to my wife, “Remove your carpets from my sight,” but she would say, “Didn’t the Prophet (ﷺ) tell you that you would soon have carpets?” So I would give up my request.
USC-MSA web (English) reference