۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 56

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَعَى جَعْفَرًا وَزَيْدًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ‏.‏

ہم سے احمد بن اسحٰق نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسحٰق نے ، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہحضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کی نیت سے ( مکہ ) آئے اور ابوصفوان امیہ بن خلف کے یہاں اترے ۔ امیہ بھی شام جاتے ہوئے ( تجارت وغیرہ کے لیے ) جب مدینہ سے گزرتا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا کرتا تھا ۔ امیہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا ، ابھی ٹھہرو ، جب دوپہر کا وقت ہو جائے اور لوگ غافل ہو جائیں ( تب طواف کرنا کیونکہ مکہ کے مشرک مسلمانوں کے دشمن تھے ) سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، چنانچہ میں نے جا کر طواف شروع کر دیا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ابھی طواف کر ہی رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا اور کہنے لگا ، یہ کعبہ کا طواف کون کر رہا ہے ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ میں سعد ہوں ۔ ابوجہل بولا : تم کعبہ کا طواف خوب امن سے کر رہے ہو حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دے رکھی ہے ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ٹھیک ہے ۔ اس طرح دونوں میں بات بڑھ گئی ۔ پھر امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا : ابوالحکم ( ابوجہل ) کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولو ۔ وہ اس وادی ( مکہ ) کا سردار ہے ۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : خدا کی قسم اگر تم نے مجھے بیت اللہ کے طواف سے روکا تو میں بھی تمہاری شام کی تجارت خاک میں ملا دوں گا ( کیونکہ شام جانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو مدینہ سے جاتا ہے ) بیان کیا کہ امیہ برابر سعد رضی اللہ عنہ سے یہی کہتا رہا کہ اپنی آواز بلند نہ کرو اور انہیں ( مقابلہ سے ) روکتا رہا ۔ آخر سعد رضی اللہ عنہ کو اس پر غصہ آ گیا اور انہوں نے امیہ سے کہا ۔ چل پرے ہٹ میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تیرے متعلق سنا ہے ۔ آپ نے فرمایا تھا کہ تجھ کو ابوجہل ہی قتل کرائے گا ۔ امیہ نے پوچھا : مجھے ؟ سعد رضی اللہ عنہ کہا : ہاں تجھ کو ۔ تب تو امیہ کہنے لگا ۔ اللہ کی قسم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کوئی بات کہتے ہیں تو وہ غلط نہیں ہوتی پھر وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس نے اس سے کہا تمہیں معلوم نہیں ، میرے یثربی بھائی نے مجھے کیا بات بتائی ہے ؟ اس نے پوچھا : انہوں نے کیا کہا ؟ امیہ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ چکے ہیں کہ ابوجہل مجھ کو قتل کرائے گا ۔ وہ کہنے لگی ۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم غلط بات زبان سے نہیں نکالتے ۔ پھر ایسا ہوا کہ اہل مکہ بدر کی لڑائی کے لیے روانہ ہونے لگے اور امیہ کو بھی بلانے والا آیا تو امیہ سے اس کی بیوی نے کہا ، تمہیں یاد نہیں رہا تمہارا یثربی بھائی تمہیں کیا خبر دے گیا تھا ۔ بیان کیا کہ اس یاددہانی پر امیہ نے چاہا کہ اس جنگ میں شرکت نہ کرے ۔ لیکن ابوجہل نے کہا : تم وادی مکہ کے رئیس ہو ۔ اس لیے کم از کم ایک یا دو دن کے لیے ہی تمہیں چلنا پڑے گا ۔ اس طرح وہ ان کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لیے نکلا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قتل کرا دیا ۔

Narrated Anas bin Malik:

The Prophet (ﷺ) had informed us of the death of Ja`far and Zaid before the news of their death reached us, and his eyes were shedding tears.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top