حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ امْرَأَتِهِ ابْنَةِ خَارِجَةَ بِالْعَوَالِي فَجَعَلُوا يَقُولُونَ لَمْ يَمُتِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ عِنْدَ الْوَحْىِ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَكَ مَرَّتَيْنِ قَدْ وَاللَّهِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . وَعُمَرُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلاَ يَمُوتُ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ كَثِيرٍ وَأَرْجُلَهُمْ . فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَىٌّ لَمْ يَمُتْ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} . قَالَ عُمَرُ فَلَكَأَنِّي لَمْ أَقْرَأْهَا إِلاَّ يَوْمَئِذٍ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہجب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا ، تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا ، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا ، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے ، اور دعا کی کہ اے اللہ ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما ، بالآخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ملے ، اور ان کو لایا گیا ، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے ، لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر کھودی گئی ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے ، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے ، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا ، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے ، جب سب مرد فارغ ہو گئے ، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں ، تو بچے جانے لگے ، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی ۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے ، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے ، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا ، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی ، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا ، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب ، فضل بن عباس ، ان کے بھائی قثم بن عباس ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے ۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل ہے ، ( مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں ) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اتر جاؤ ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے ، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے ، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا : قسم اللہ کی ! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے ، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیا گیا ۔