۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ امْرَأَتِهِ ابْنَةِ خَارِجَةَ بِالْعَوَالِي فَجَعَلُوا يَقُولُونَ لَمْ يَمُتِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ عِنْدَ الْوَحْىِ ‏.‏ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَكَ مَرَّتَيْنِ قَدْ وَاللَّهِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ وَعُمَرُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلاَ يَمُوتُ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ كَثِيرٍ وَأَرْجُلَهُمْ ‏.‏ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَىٌّ لَمْ يَمُتْ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ‏{وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ}‏ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَلَكَأَنِّي لَمْ أَقْرَأْهَا إِلاَّ يَوْمَئِذٍ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہجب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا ، تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا ، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا ، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے ، اور دعا کی کہ اے اللہ ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما ، بالآخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ملے ، اور ان کو لایا گیا ، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے ، لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر کھودی گئی ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے ، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے ، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا ، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے ، جب سب مرد فارغ ہو گئے ، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں ، تو بچے جانے لگے ، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی ۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے ، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے ، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا ، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی ، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا ، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب ، فضل بن عباس ، ان کے بھائی قثم بن عباس ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے ۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل ہے ، ( مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں ) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اتر جاؤ ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے ، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے ، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا : قسم اللہ کی ! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے ، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیا گیا ۔

It was narrated that ‘Aishah said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) passed away, Abu Bakr was with his wife, the daughter of Kharijah, in villages surrounding Al-Madinah. They started to say: ‘The Prophet (ﷺ) has not died, rather he has been overcome with what used to overcome him at the time of Revelation.’ Then Abu Bakr came and uncovered his (the Prophet’s (ﷺ)) face, kissed him between the eyes and said: ‘You are too noble before Allah for Him to cause you to die twice. By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) has indeed died.’ ‘Umar was in a corner of the mosque saying: ‘By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) has not died and he will never die until the hands and feet of most of the hypocrites are cut off.’ Then Abu Bakr stood up, ascended the pulpit and said: ‘Whoever used to worship Allah, Allah is alive and will never die. Whoever used to worship Muhammad, Muhammad is dead. “Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels (as disbelievers)? And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful.’” [3:144] ‘Umar said: ‘It was as if I had never read (that Verse) before that day.’”

Scroll to Top