۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ “‏ كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِ عَظْمِ الْحَىِّ فِي الإِثْمِ ‏”‏ ‏.‏

عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہمیں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : اماں جان ! مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا حال بیان کیجئے تو انہوں نے بیان کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ( اپنے بدن پر ) پھونکنا شروع کیا ، ہم نے آپ کے پھونکنے کو انگور کھانے والے کے پھونکنے سے تشبیہ دی ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کا باری باری چکر لگایا کرتے تھے ، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہنے کی اجازت مانگی ، اور یہ کہ بقیہ بیویاں آپ کے پاس آتی جاتی رہیں گی ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس دو آدمیوں کے سہارے سے آئے ، اس حال میں کہ آپ کے پیر زمین پہ گھسٹ رہے تھے ، ان دو میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ۔ عبیداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا : کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا ، جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا ؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ۔

It was narrated from Umm Salamah that the Prophet (ﷺ) said:
“Breaking the bones of the deceased is, in sin, like breaking his bones when he is alive.”

Scroll to Top