حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ. فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا فَأَيُّهُمَا سَبَقَ تَرَكْنَاهُ . فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ. فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہجب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے ، ایک بغلی قبر بناتا تھا ، اور دوسرا صندوقی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں ، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں ( پھر جو کوئی پہلے آئے گا ، ہم اسے کام میں لگائیں گے ) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے ، ان دونوں کو بلوایا گیا ، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا ، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی ۔