حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُحِرَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ.
مجھ سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن علاء بن زبیر نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے بسر بن عبیداللہ سے سنا ، انہوں نے ابو ادریس سے سنا ، کہا کہ میں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہمیں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو ، میری موت ، پھر بیت المقدس کی فتح ، پھر ایک وبا جو تم میں شدت سے پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیل جاتا ہے ۔ پھر مال کی کثرت اس درجہ میں ہو گی کہ ایک شخص سو دینار بھی اگر کسی کو دے گا تو اس پر بھی وہ ناراض ہو گا ۔ پھر فتنہ اتنا تباہ کن عام ہو گا کہ عرب کا کوئی گھر باقی نہ رہے گا جو اس کی لپیٹ میں نہ آ گیا ہو گا ۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی لاصفر ( نصارائے روم ) کے درمیان ہو گی ، لیکن وہ دغا کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اس میں اسی جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہو گی ۔ یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج سے وہ تم پر حملہ آور ہوں گے ) ۔
Narrated Aisha:
Once the Prophet (ﷺ) was bewitched so that he began to imagine that he had done a thing which in fact he had not done.
USC-MSA web (English) reference