حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِي، وَفِي نَوْبَتِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ. قَالَتْ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِسِوَاكٍ، فَضَعُفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ، فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ ثُمَّ سَنَنْتُهُ بِهِ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے حضرت علی بن حسین زین العابدین نے کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرات حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملنے کے لئے حاضر ہوئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے تھے ۔ پھر وہ واپس ہونے کے لئے اٹھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ اٹھے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازہ کے قریب پہنچے جو مسجدنبوی کے دروازے سے ملا ہوا تھا تو دو انصاری صحابی ( اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) وہاں سے گزرے ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے سلام کیا اور آگے بڑھنے لگے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ‘ ذرا ٹھہر جاؤ ( میرے ساتھ میری بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں یعنی کوئی دوسرا نہیں ) ان دونوں نے عرض کیا ۔ سبحان اللہ ‘ یا رسول اللہ ! ان حضرات پر آپ کا یہ فرمانا بڑا شاق گزرا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا رہتا ہے جیسے جسم میں خون دوڑتا ہے ۔ مجھے یہی خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو جائے ۔
Narrated Ibn Abu Mulaika:
`Aisha said, “The Prophet (ﷺ) died in my house on the day of my turn while he was leaning on my chest closer to my neck, and Allah made my saliva mix with his Saliva.” `Aisha added, “`AbdurRahman came with a Siwak and the Prophet (ﷺ) was too weak to use it so I took it, chewed it and then (gave it to him and he) cleaned his teeth with it.”
USC-MSA web (English) reference