۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 53

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ كُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَأْسِي، وَهْىَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَىْ فَرْسَخٍ‏.‏ وَقَالَ أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ‏.‏

مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا ، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہعمر نے یہود و نصاریٰ کو سرزمین حجاز سے نکال کر دوسری جگہ بسا دیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو آپ کا بھی ارادہ ہوا تھا کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے ۔ جب آپ نے فتح پائی تو اس وقت وہاں کی کچھ زمین یہودیوں کے قبضے میں ہی تھی ۔ اور اکثر زمین پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کے قبضے میں تھی ۔ لیکن پھر یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی ، آپ زمین انہیں کے پاس رہنے دیں ۔ وہ ( کھیتوں اور باغوں میں ) کام کیا کریں گے ۔ اور آدھی پیداوار لیں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا جب تک ہم چاہیں گے اس وقت تک کے لیے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے ۔ چنانچہ یہ لوگ وہیں رہے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے دور خلافت میں ( مسلمانوں کے خلاف ان کے فتنوں اور سازشوں کی وجہ سے یہود خیبر کو ) تیماء یا اریحا کی طرف نکال دیا تھا ۔

Narrated Asma bint Abu Bakr:

I used to carry the date stones on my head from the land of Az-Zubair which Allah’s Messenger (ﷺ) had given to him, and it was at a distance of 2/3 of a Farsakh from my house. Narrated Hisham’s father: The Prophet (ﷺ) gave Az-Zubair a piece of land from the property of Bani An- Nadir (gained as war booty).

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top