حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ “ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلاَ تَنَاجَشُوا، وَلاَ يَزِيدَنَّ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلاَ يَخْطُبَنَّ عَلَى خِطْبَتِهِ، وَلاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ إِنَاءَهَا ”.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان ، ان سے ابن شہا ب نے ، ا ن سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابو ہر یرہ اور ز ید بن خالدجہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہایک دیہاتی صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ میرا فیصلہ کتاب اللہ سے کر دیں ۔ دوسرے فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا ، کہا کہ جی ہاں ! کتاب اللہ سے ہی ہمارا فیصلہ فرمائیے ، اور مجھے ( اپنا مقدمہ پیش کرنے کی ) اجازت دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیش کر ۔ اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا ۔ پھر اس نے ان کی بیوی سے زنا کر لیا ، جب مجھے معلوم ہوا کہ ( زنا کی سزا میں ) میرا لڑکا رجم کر دیا جائے گا تو میں نے اس کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دی ، پھر علم والوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کو ( زنا کی سزا میں کیونکہ وہ غیر شادی شدہ تھا ) سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے گا ۔ البتہ اس کی بیوی رجم کر دی جائے گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ ہی سے کروں گا ۔ باندی اور بکریاں تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کیا جائے گا ۔ اچھا انیس ! تم اس عورت کے یہاں جاؤ ، اگر وہ بھی ( زنا کا ) اقرار کر لے ، تو اسے رجم کر دو ( کیونکہ وہ شادی شدہ تھی ) بیان کیا کہ انیس رضی اللہ عنہ اس عورت کے یہاں گئے اور اس نے اقرار کر لیا ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے وہ رجم کی گئی ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, “No town-dweller should sell for a bedouin. Do not practice Najsh (i.e. Do not offer a high price for a thing which you do not want to buy, in order to deceive the people). No Muslim should offer more for a thing already bought by his Muslim brother, nor should he demand the hand of a girl already engaged to another Muslim. A Muslim woman shall not try to bring about The divorce of her sister (i.e. another Muslim woman) in order to take her place herself.”
USC-MSA web (English) reference