حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم “ لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا ثَلاَثًا ”. فَلَمْ يَقْدَمْ حَتَّى تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا. فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَعَدَنِي. فَحَثَى لِي ثَلاَثًا.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ابن ابی ملیکہ سے اور وہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک بھی نہیں دی ۔ انہوں نے ( مجھ سے ) کہا ، بیٹے چلو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں ۔ میں ان کے ساتھ چلا ۔ پھر انہوں نے کہا کہ اندر جاؤ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ میں آپ کا منتظر کھڑا ہوا ہوں ، چنانچہ میں اندر گیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لایا ۔ آپ اس وقت انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی ، لو اب یہ تمہاری ہے ۔ مسور نے بیان کیا کہ ( میرے والد ) مخرمہ رضی اللہ عنہ نے قباء کی طرف دیکھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مخرمہ ! خوش ہو یا نہیں ؟
Narrated Jabir:
The Prophet (ﷺ) said to me, “I will give you so much (the Prophet (ﷺ) pointed thrice with his hands) when funds of Bahrain will come to me.” But the Prophet (ﷺ) died before the money reached him. (When it came) Abu Bakr ordered an announcer to announce that whoever had a money claim on the Prophet (ﷺ) or was promised to be given something, should come to Abu Bakr. I went to Abu Bakr and told him that the Prophet (ﷺ) had promised to give me so much. On that Abu Bakr gave me three handfuls (of money).
USC-MSA web (English) reference