حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا. فَقَالَ ” أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ ”. قَالَ لاَ. قَالَ ” فَارْجِعْهُ ”.
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے ، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سناوہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا ، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہ ( نعمان کی والدہ ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ ( حاضر خدمت ہو کر ) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو ۔ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا ۔
Narrated An-Nu`man bin Bashir:
that his father took him to Allah’s Messenger (ﷺ) and said, “I have given this son of mine a slave.” The Prophet asked, “Have you given all your sons the like?” He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) said, “Take back your gift then.”
USC-MSA web (English) reference