حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَقَالَ ” عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ”. قَالَتْ لاَ، إِلاَّ شَىْءٌ بَعَثَتْ بِهِ أُمُّ عَطِيَّةَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بُعِثَ إِلَيْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ. قَالَ ” إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا ”.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ہشام سے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہلوگ تحائف بھیجنے کے لیے میری باری کا انتظار کیا کرتے تھے ۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میری سوکنیں ( امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن ) جمع تھیں اس وقت انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بطور شکایت لوگوں کی اس روش کا ) ذکر کیا ۔ تو آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔
Narrated Um ‘Atiyya:
Once the Prophet (ﷺ) went to `Aisha and asked her whether she had something (to eat). She said that she had nothing except the mutton which Um ‘Atiyya had sent to (Barirah) in charity. The Prophet (ﷺ) said that it had reached its destination (i.e. it is no longer an object of charity.)
USC-MSA web (English) reference