حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَقِيلَ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ قَالَ “ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ”.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا عبدالرحمٰن بن قاسم سے ، شعبہ نے کہا کہمیں نے یہ حدیث عبدالرحمٰن سے سنی تھی اور انہوں نے قاسم سے روایت کی ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو ( آزاد کرنے کے لیے ) خریدنا چاہا ۔ لیکن ان کے مالکوں نے ولاء کی شرط اپنے لیے لگائی ۔ جب اس کا ذکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ نے فرمایا ، تو انہیں خرید کر آزاد کر دے ، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے ۔ اور بریرہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ( صدقہ کا ) گوشت آیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا یہ وہی ہے جو بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے ۔ یہ ان کے لیے تو صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ( چونکہ ان کے گھر سے بطور ہدیہ ملا ہے ) ہدیہ ہے اور ( آزادی کے بعد بریرہ کو ) اختیار دیا گیا تھا ( کہ اگر چاہیں تو اپنے نکاح کو فسخ کر سکتی ہیں ) عبدالرحمٰن نے پوچھا بریرہ رضی اللہ عنہ کے خاوند ( حضرت مغیث رضی اللہ عنہ ) غلام تھے یا آزاد ؟ شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن سے ان کے خاوند کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں وہ غلام تھے یا آزاد ۔
Narrated Anas bin Malik:
Some meat was brought to the Prophet (ﷺ) and it was said that the meat had been given in charity to Barirah. He said, “It was Sadaqa for Barirah but a gift for us.”
USC-MSA web (English) reference