حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، بِهَذَا قَالَ فَلَقِيتُهُ بَعْدُ بِمَكَّةَ، فَقَالَ لاَ أَدْرِي أَثَلاَثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلاً وَاحِدًا.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو نضر نے خبر دی ، کہا کہ ہم کو اسرائیل نے خبر دی ابواسحاق سے کہ مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ( دوسری سند ) ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ابواسحاق سے ، اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہ( ہجرت کر کے مدینہ جاتے وقت ) میں نے تلاش کیا تو مجھے ایک چرواہا ملا جو اپنی بکریاں چرا رہا تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کس کے چرواہے ہو ؟ اس نے کہا کہ قریش کے ایک شخص کا ۔ اس نے قریشی کا نام بھی بتایا ، جسے میں جانتا تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تمہارے ریوڑ کی بکریوں میں دودھ بھی ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں ! میں نے اس سے کہا کیا تم میرے لیے دودھ دوہ لو گے ؟ اس نے کہا ، ہاں ضرور ! چنانچہ میں نے اس سے دوہنے کے لیے کہا ۔ وہ اپنے ریوڑ سے ایک بکری پکڑ لایا ۔ پھر میں نے اس سے بکری کا تھن گردوغبار سے صاف کرنے کے لیے کہا ۔ پھر میں نے اس سے اپنا ہاتھ صاف کرنے کے لیے کہا ۔ اس نے ویسا ہی کیا ۔ ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر صاف کر لیا ۔ اور ایک پیالہ دودھ دوہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میں نے ایک برتن ساتھ لیا تھا ۔ جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا ۔ میں نے پانی دودھ پر بہایا ۔ جس سے اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو گیا پھر دودھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور عرض کیا کہ دودھ حاضر ہے ۔ یا رسول اللہ ! پی لیجئے ، آپ نے اسے پیا ، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا ۔
Narrated Salama:
the above narration (0 ) from Ubai bin Ka`b: adding, “I met the sub-narrator at Mecca later on, but he did not remember whether Ka`b had announced what he had found one year or three years.”
USC-MSA web (English) reference