۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 42

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اللُّقَطَةِ قَالَ ‏”‏ عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ‏”‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ ‏”‏ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ‏”‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ـ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ ـ ثُمَّ قَالَ ‏”‏ مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ‏”‏‏.‏

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا کہ میں نے سوید بن غفلہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہمیں سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے ساتھ ایک جہاد میں شریک تھا ۔ میں نے ایک کوڑا پایا ( اور اس کو اٹھا لیا ) دونوں میں سے ایک نے مجھ سے کہا کہ اسے پھینک دے ۔ میں نے کہا کہ ممکن ہے مجھے اس کا مالک مل جائے ۔ ( تو اس کو دے دوں گا ) ورنہ خود اس سے نفع اٹھاؤں گا ۔ جہاد سے واپس ہونے کے بعد ہم نے حج کیا ۔ جب میں مدینے گیا تو میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مجھ کو ایک تھیلی مل گئی تھی ۔ جس میں سو دینار تھے ۔ میں اسے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ ، میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا اور پھر حاضر ہوا ۔ ( کہ مالک ابھی تک نہیں ملا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اور اعلان کر ، میں نے ایک سال تک اس کا پھر اعلان کیا ، اور حاضر خدمت ہوا ۔ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا پھر اعلان کر ، میں نے پھر ایک سال تک اعلان کیا اور جب چوتھی مرتبہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رقم کے عدد ، تھیلی کا بندھن ، اور اس کی ساخت کو خیال میں رکھ ، اگر اس کا مالک مل جائے تو اسے دیدے ورنہ اسے اپنی ضروریات میں خرچ کر ۔ ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی شعبہ سے اور انہیں سلمہ نے یہی حدیث ، شعبہ نے بیان کیا کہ پھر اس کے بعد مکہ میں سلمہ سے ملا ، تو انہوں نے کہا کہ مجھے خیال نہیں ( اس حدیث میں سوید نے ) تین سال تک بتلانے کا ذکر کیا تھا یا ایک سال کا ۔

Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani:

A man asked Allah’s Messenger (ﷺ) about the Luqata. He said, “Make public announcement of it for one year, then remember the description of its container and the string it is tied with, utilize the money, and if its owner comes back after that, give it to him.” The people asked, “O Allah’s Messenger (ﷺ)! What about a lost sheep?” Allah’s Messenger (ﷺ) said, “Take it, for it is for you, for your brother, or for the wolf.” The man asked, “O Allah’s Messenger (ﷺ)! What about a lost camel?” Allah’s Messenger (ﷺ) got angry and his cheeks or face became red, and said, “You have no concern with it as it has its feet, and its watercontainer, till its owner finds it.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top