۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 42

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ، قَالَ لَقِيتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَخَذْتُ صُرَّةً مِائَةَ دِينَارٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏”‏ عَرِّفْهَا حَوْلاً‏”‏‏.‏ فَعَرَّفْتُهَا حَوْلَهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏”‏ عَرِّفْهَا حَوْلاً ‏”‏ فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ثَلاَثًا فَقَالَ ‏”‏ احْفَظْ وِعَاءَهَا وَعَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِهَا ‏”‏‏.‏ فَاسْتَمْتَعْتُ فَلَقِيتُهُ بَعْدُ بِمَكَّةَ فَقَالَ لاَ أَدْرِي ثَلاَثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلاً وَاحِدًا‏.‏

ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، ان سے ربیعہ نے ، ان سے منبعث کے غلام یزید نے ، اور ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی حاضر ہوا ۔ اور راستے میں پڑی ہوئی کسی چیز کو اٹھانے کے بارے میں آپ سے سوال کیا ۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ ۔ پھر اس کے برتن کی بناوٹ اور اس کے بندھن کو ذہن میں رکھ ۔ اگر کوئی ایسا شخص آئے جو اس کی نشانیاں ٹھیک ٹھیک بتا دے ( تو اسے اس کا مال واپس کر دے ) ورنہ اپنی ضروریات میں خرچ کر ۔ صحابی نے پوچھا ، یا رسول اللہ ! ایسی بکری کا کیا کیا جائے جس کے مالک کا پتہ نہ ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ یا تو تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی ( مالک ) کو مل جائے گی یا پھر بھیڑئیے کا لقمہ بنے گی ۔ صحابہ نے پھر پوچھا اور اس اونٹ کا کیا کیا جائے جو راستہ بھول گیا ہو ؟ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تمہیں اس سے کیا مطلب ؟ اس کے ساتھ خود اس کے کھر ہیں ۔ ( جن سے وہ چلے گا ) اس کا مشکیزہ ہے ، پانی پر وہ خود پہنچ جائے گا ۔ اور درخت کے پتے وہ خود کھا لے گا ۔

Narrated Ubai bin Ka`b:

I found a purse containing one hundred Diners. So I went to the Prophet (and informed him about it), he said, “Make public announcement about it for one year” I did so, but nobody turned up to claim it, so I again went to the Prophet (ﷺ) who said, “Make public announcement for another year.” I did, but none turned up to claim it. I went to him for the third time and he said, “Keep the container and the string which is used for its tying and count the money it contains and if its owner comes, give it to him; otherwise, utilize it.” The sub-narrator Salama said, “I met him (Suwaid, another sub-narrator) in Mecca and he said, ‘I don’t know whether Ubai made the announcement for three years or just one year.’ “

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top